شعور لاشعور اور مراقبہ

ہمارا دماغ دو حصّوں پر مشتمل ہے۔ایک حصہ شعور ہے اور  دوسرہ لاشعور 
ہے۔ ایک حصہ ہم سوتے وقت استعمال کرتے ہیں اور دوسرہ حصّہ ہم جاگتے ہوئے استعمال کرتے ہیں۔جو حصہ ہم سوتے وقت استعمال کرتے ہیں اس کو لاشعورکہتے ہیں اور جو حصّہ ہم جاگتے ہوئے استعمال کرتے ہیں اسکو شعور کہتے ہیں۔
لاشعور جو ہم سوتے وقت استعمال کرتے ہیں وہ ہمارا لامحدود دماغ کا حصہ ہے۔ لاشعور ہر قید و بند سے آزاد ہے یہ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے۔ مطلب یہ وقت اور مادی رکاوٹ سے آزاد ہے۔ ماضی حال اور مستقبل میں جانا اس دماغ کے حصّے کے لئے ایک جیسا معنی رکھتا ہے۔اور مادی قید سے آزاد ہونے کا مطلب ہے کہ دماغ کا یہ حصہ ہر جگہ ایسے پہنچ سکتا ہے جیسے پاکستان اور امریکہ اس کے لئے ایک ہی بات ہو۔جو خواب کے دوران ہمیں مستقبل کے انکشافات ہوتے ہیں وہ اسی دماغ کے حصّے کی بدولت ہوتے ہیں۔یہ رب کی ذات کا بنایا ہوا نظام ہے کہ دماغ کے اس حصّے کو ایسی قوت سے نوازا ہے کہ یہ ہر پابندی سے آزاد رہتا ہے۔ یہ لامحدود دماغ عالَم برزخ عالَم اعراف اور عالَم ملکوت تک رسائی رکھتا ہے تب ہی نیک روحوں کی زیارت بھی خواب کی دنیا میں ہی ممکن ہوتا ہے۔یہ ہوا ہمارا لاشعوری دماغ۔اب ہم شعوری دماغ کی بات کرتے ہیں۔
ہمارا شعور حواس خمسہ پر مشتمل ہے۔ جاگتے ہوئے جو دماغ کا حصہ حرکت کر رہا ہوتا ہے اسکو شعور کہتے ہیں۔شعور میں ہمارے پانچ 
حواس اور ارادے کی قوت شامل ہے۔
مراقبے کی کیفیت میں ہم نیند اور بیداری کے درمیان ہوتے ہیں جب ہماری تمام تر توجہ ایک مرکز کی طرف ہوتا ہے اور ہمارا دماغ تمام خیالات سے خالی ہو جاتا ہے۔اور ہم جاگتے ہوئے نیند کے حواس کو  بھی حرکت میں لانا شروع کر دیتے ہیں۔
تب ہمارا شعور اور لا شعور ایک ساتھ کام کرنے لگ جاتا ہے۔شعور کی قوت ارادی سے ہم لاشعور سے اپنی مرضی کا کام لینا شروع کر دیتے ہیں۔اپنی مرضی سے جاگتے ہوئے ہر طرح کی معلومات لینا شروع کر دیتے ہیں۔وہ لوگ جن کو جاگتے ہوئے بھی خود بخود بہت سی باتوں کے انکشافات ہونا شروع ہو جاتے ہیں ان لوگوں کا جاگتے ہوئے لاشعور کے ساتھ رابطہ قائم ہوا ہوتا ہے۔
مراقبے کی بار بار مشق کرتے رہنے سے شعور اور لاشعور آپس میں کنیکٹ ہونا شروع ہوتے جاتے ہیں۔ 

Comments

Post a Comment